کاروار 31/ مئی (ایس او نیوز) مقامی عوام الزام لگارہے ہیں کہ شمالی کینرا میں گزشتہ دو سال سے قدرتی آفات کے نتیجے میں نقصان اٹھانے والوں کو سرکار معاوضہ کے نام پر صرف وعدوں سے بہلانے میں مصروف ہے۔
ضلع شمالی کینرا میں امسال مانسون سے پہلے آئے ہوئے تاوکتے طوفان نے جو تباہی مچائی تھی اس طوفان میں 153 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا تھا جبکہ 22 مکانات کو بہت بھاری نقصان پہنچا ۔ جائزہ لینے کے لئے دورہ پر آئے ہوئے ریوینیو منسٹر آر اشوک نے وعدہ کیا کہ ان نقصان اٹھانے والے خاندانوں کو عبوری امداد کے طور پر دس ہزار روپے فی کس دئے جائیں گے اس کے علاوہ بعد گھروں کی مرمت اور تعمیر کے لئے مرحلہ وار امدادی رقم جاری کی جائے گی۔
خیال رہے کہ سال 2019 - 20 میں زبردست سیلاب آیا تھا جس سے بہت زیادہ تباہی مچی تھی۔ اس وقت 380 مکانات کو بھاری نقصان پہنچا تھا۔ مگر مقامی لوگوں کی مانیں تو اب تک ان میں سے 293 خاندانوں کو ہی مالی امداد دی گئی ہے۔ جبکہ جزوی نقصان اٹھانے والے 100 گھروں میں سے صرف 18 خاندانوں کو ہی پورا معاوضہ منظور کیا گیا ہے۔
غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ 75 گھروں کو بھی نقصان کا معاوضہ 5 لاکھ روپے ادا کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس میں سے صرف پہلی قسط 1 لاکھ روپے ادا کرنے کے بعد حکومت کی طرف سے بقیہ اقساط کی رقم جاری نہیں کی گئی۔ اب حکومت کے وعدہ پر یقین کرکے گھروں کی بنیاد رکھنے کا کام کرنے کے بعد متاثرین بڑی مشکل صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ ضلع انتظامِہ نے گزشتہ سال بھاری برسات کی وجہ سے سرکاری جائداد کو ہونے والے نقصان کا اندازہ 324 کروڑ روپے لگایا تھا۔ لیکن امسال مارچ کے آخر میں حکومت نے سڑکوں کی مرمت اور دوسرے سوِل ورک کے لئے صرف 21.40 کروڑ روپے جاری کیے۔ اس طرح حکومت قدرتی آفات کے موقع پر معاوضہ کا اعلان تو کرتی ہے، لیکن وعدوں کو پورا کرنے میں تامل اور کوتاہی سے متاثرین کو بہت زیادہ دشواریاں اٹھانی پڑتی ہیں۔